بلیا،8؍اکتوبر (ایس و نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) اپنی تقریر اور اشتعال انگیز بیانات سے معروف مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے راہل گاندھی کے متعلق تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے نائب صدرراہل گاندھی کو ملک کی تاریخ وجغرافیہ سے بھی واقفیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر راہول کی پارٹی کی پالیسییں درست ہوتی تو آج یہ ایسی خراب صورتحال نہیں ہوتی ۔ وزیر اعظم اور بی جے پی پر مسلسل تنقید کرنے کے پس منظر میں انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی محض کسی فلمی ایکٹر کی طرح اسکرپٹ پڑھنے کے عادی ہیں۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے مزید تنقیدی کاز کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 60 سال تک راہل گاندھی کا خاندان بر سراقتدار رہا ؛ لیکن ملک کی ترقیات اور سلامتی ڈھانچہ اپنی جگہ زمین بوس ہے اگر کانگریس کی پالیسییں صحیح تھیں تو ملک میں ان کی گرفت صرف 20 فی صد تک محدود کیوں رہ گئی ہے جبکہ بی جے پی کی گرفت 75فیصدی تک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے تین سالہ دور اقتدار کا حساب دے دیا ہے۔ پی ایم مودی نے کہا تھا : ’’ نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا ‘‘کے مبینہ فلسفہ پر عمل کر کے دکھا دیا ،اس کی واضح دلیل تین سالہ دور اقتدا رہے ۔ گری راج سنگھ نے کہا کہ حزب اختلاف مدعوں سے بھٹک گیا ہے ،جھوٹ کا سہارا لیکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جب کہ کانگریس کے دور اقتدار کی واضح ترقیات کو مرکزی وزیر نے معاصرانہ چپقلش کے مد نظر ترک کردیا اور موجودہ سرکار کی ناکامیو ں سے یکلخت چشم پوشی اختیار کرلی جب کہ یشونت سنہا کے بیانات بھی انہیں ایک فریب ہی نظر آ رہے ہیں ۔ واضح ہو کہ گری راج سنگھ ماضی میں بھی اپنی مبینہ اشتعال انگیزی کی وجہ سے سرخیوں میں بنے ہوئے تھے ؛ بلکہ وہ اپنے بیانات کے ذریعہ سرخیوں میں بنے رہتے ہیں ۔